1 نومبر 2011 - 20:30

فرانس میں گروپ بیس کے اجلاس کے موقع پر اس ملک کے مختلف شہروں میں عوام کے بھر پور احتجاج کے پیش نظر فرانسیسی حکام نے ملک بھر میں حفاظتی تدابیر سخت کردی ہیں۔

ابنا: یہ اجلاس آج اور کل فرانس کے شہر کانز میں بلایا جارہا ہے۔ برسلز میں گزشتہ ہفتے کے یورپی یونین کے اجلاس میں طے پانے والے سمجھوتوں اور یورو زون کے قرضوں کے معاملے کے حل کے لۓ ان سمجھوتوں پر عمل درآمد کی نوعیت پر بحث کو گروپ بیس کےاجلاس کے ایجنڈے میں ترجیح حاصل ہے۔ اس اجلاس کے موقع پر فرانس کے تقریبا دس ہزار افراد نے نیس اور کانز شہروں میں غربت کے خلاف مظاہرے کۓ۔ نیس شہر نیز کانز شہر میں اجلاس بلاۓ جانے والے مقام سے تیس کلومیٹر کے فاصلے تک تقریبا دو ہزار پانچ سو پولیس اہلکار تعینات کۓ گۓ ہیں۔ اور بارہ ہزار سے زیادہ سیکورٹی اہلکار صورتحال پر نظر رکھے ہوۓ ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ امریکی صدر باراک اوباما ستائس نومبر کو یورپی یونین کمیشن کے سربراہ مانوئیل باروسو ، یورپی کونسل کے سربراہ ہرمان وان رامپوی اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کمیشن کی سربراہ کیتھرین ایشٹون سےملاقات کریں گے۔ اور اقتصادی مسائل نیز عرب ممالک کے حالات پر تبادلۂ خیالات کریں گے۔گروپ بیس سنہ انیس سو نوے کے عشرے کے اواخر میں مالیاتی بحرانوں کے بعد اور اس بات کو تسلیم کۓ جانے کےبعد قائم کیا گيا کہ نئی ابھرنے والی اقتصادی طاقتوں کو عالمی معیشت سے متعلق معاملات میں ان کے شایان شان طور پر شریک نہیں کیا جاتا ہے۔ گروپ بیس کے ارکان ارجنٹائن ، آسٹریلیا، برازیل ، کینیڈا ، چین ، فرانس ، جرمنی ، ہندوستان ، انڈونیشیا ، اٹلی ، جاپان ، میکسیکو، روس ، سعودی عرب ، جنوبی افریقہ ، جنوبی کوریا ، ترکی ، برطانیہ ، امریکہ اور یورپی یونین کے سنٹرل بینکوں کے سربراہوں اور وزراۓ خزانہ پر مشتمل ہیں۔ اس اجلاس میں آئي ایم ایف کے ڈائریکٹر اور ورلڈ بینک کے سربراہ کے علاوہ عالمی بینک اور آئي ایم ایف کی مالیاتی کمیٹیوں کے چیئرمین بھی شریک ہیں۔ گروپ بیس کے رکن ممالک کی جی این پی نوے فیصد ، عالمی تجارت میں اس کا حصہ اسی فیصد اور ان ممالک کی مجموعی آبادی دنیاکی دو تہائی آبادی پر مشتمل ہے۔ گروپ بیس کا اجلاس ایسی حالت میں بلایا جارہا ہےکہ جب یورپی یونین کی تجویز قبول کرنے کے سلسلے میں یونان کی حکومت کے ریفرینڈم کے مسئلے کی وجہ سے اس اجلاس کی اہمیت کم ہو کر رہ گئي ہے۔ یورپی کونسل کے سربراہ ہرمن وان رومپوی اور یورپی کمیشن کے سربراہ خوزہ مانوئیل نے مشترکہ طور پر ایک بیان میں اس امید کا اظہار کیا ہےکہ حکومت یونان نے گزشتہ ہفتے یورپی یونین کے اجلاس میں جن اقدامات کو انجام دینے کا وعدہ کیا ہے ان کو وہ انجام دے گی۔............

/169